19 فروری 2015 - 16:21
یوکرین؛ مخالفین کی مینسک سمجھوتے کی خلاف ورزی پر کڑی تنقید

یوکرین کےمخالفین نے مینسک سمجھوتے کی خلاف ورزی پر یوکرینی حکومت پر کڑی تنقید کی ہے۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ ایتارتاس نیوزایجنسی کی رپورٹ کے مطابق یوکرین کےایک مخالف رہنمادنیس پوشین نےجمعرات کو مشرقی یوکرین میں واقع دونیسک اور لوہانسک پر مشتمل دونباس علاقے میں روس اوریوکرین کی سرحدوں پر امن محافظ فوج کی ممکنہ تعیناتی کو مینسک سمجھوتے کی خلاف ورزی قراردیا ہے ۔یوکرینی حکومت کے مخالف رہنما پوشین نے ماسکو، برلین اور پیرس سے مطالبہ کیا کہ وہ یوکرین کوصلح کے راستے واپس لانے کے لئے اپنی تمام تر کوششیں بروئے کار لائیں۔ یوکرینی حکومت کے مخالف رہنمانے روس، جرمنی اور فرانس سے مینسک سمجھوتے کی شقوں پر عملدرآمد کے لئے ضمانت فراہم کئے جانے کابھی مطالبہ کیا۔ واضح رہے کہ یوکرین کے صدر پٹرو پوروشنکو نے مشرقی علاقوں میں جنگ بندی پر نگرانی کے لئے اقوام متحدہ کی امن محافظ فوج تعینات کئےجانے کی درخواست کی ہے تاہم مخالفین نے اس تجویز کی مخالفت کرتے ہوئے اس کو مینسک سمجھوتے کی خلاف ورزی قراردیا ہے- یوکرین کی قومی سلامتی اور دفاعی کونسل نے بدھ کی شام ایک ہنگامی اجلاس میں صدر پورشنکو کی اس درخواست کو منظور کرلیا ہے  پوروشنکو نے اس درخواست میں کہا ہے کہ اقوام متحدہ کی امن محافظ فوج اس علاقے میں امن قائم کرنے میں مدد دے گی۔دوسری جانب اقوام متحدہ ميں روس کے مندوب ویتالی چورکین نے بھی یوکرینی صدر کی اس تجویز پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے  کہ پوروشنکو کی تجویز سے  ظاہرہوتا ہے کہ وہ اپنے کئے گئے وعدے پر عمل کرنے میں شک و تردید کاشکار ہیں – اس درمیان روس ، یوکرین ، فرانس اور  جرمنی کے سربراہوں نے جمعرات کو اپنی ٹیلیفونی گفتگو میں مشرقی یوکرین میں جنگ بندی کی خلاف ورزی کی مذمت کی ہے ۔ روس، جرمنی، یوکرین اورفرانس کےسربراہوں نے اپنی ٹیلفیونی گفتگو میں،  بارہ فروری کو مینسک میں ہونے والے معاہدے کی بنیاد پر مکمل جنگ بندی کا مطالبہ کیاہے-اس سمجھوتے میں مکمل جنگ بندی، بھاری ہتھیاروں کو جنگی علاقوں سے ہٹائے جانے اور جنگی قیدیوں کو رہا کئے جانے پر اتفاق کیا گیا تھا۔ دریں اثنا دونیسک میں مخالفین کے ایک رہنما نے کہا ہے کہ دبالسیو شہر کے مضافاتی علاقوں میں  مخالفین کے ساتھ لڑائی میں چالیس یوکرینی فوجی  ہلاک کردیئے گئے ہيں۔یوکرینی حکومت کے ایک مخالف رہنما الگزنڈر زاخارچنکو نے جمعرات کو بتایا کہ مشرقی یوکرین کے دبالسیو شہر میں اب تک ساڑھے تین ہزار یوکرینی  فوجی مارے جاچکے ہیں -

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۴۲